Time Travel: when only the real explorers existed



In the month of March 2018, the TKC (The Karakorum Club) started a prize theme and asked people to share their stories which go decades back into the history of traveling and exploring. Those were all good stories, the stories which should not be limited to the theme. The purpose of sharing these some of the stories which all liked to remember for a long time. Time Travel: when only the real explorers existed

یہ موضوع پاکستان میں کسی بھی طرح کی پرانی یادوں اور ان کی متعلقہ کہانیوں کے بارے میں ہے۔
یہ موضوع پاکستان میں کسی بھی طرح کی پرانی یادوں اور ان کی متعلقہ کہانیوں کے بارے میں ہے۔یہ موضوع سوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم ... پر شروع کیا گیا. ابتدا میں صرف سن2000  سے پہلے کی تصاویر ہی شامل کی جا سکتی تھیں، پر یہاں سن 2000 سےقبل کی بھی  کہانیاں شامل کروں گا کیونکہ وہ دلچسپ یادیں بھی محفوظ کرنےکے قابل  ہیں.  اس موضوع میں نئے نوجوان محققین کے لئےحوصلہ افزائی کا پیغام تھا کہ کس طرح اس وقت لوگ سفر کے لئے جایا کرتے تھے۔ جب راستوں ، سواریوں اور موسموں کا احوال گھر بیٹھے پتہ نہیں چل پاتا تھا ، چلیں چلتے ہیں ماضی کے ان ایام کی طرف کہ جب صرف قدرتی نظاروں کے حسن کے حقیقی دلدادہ ہی کٹھن سفر کیا کرتے تھے ۔ آئیے ان کے دلچسپ اور یادگار سفروں کی کچھ یادوں میں ان کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔

چترال میرا پہلا پیار

کلی خان، ١٩٩٤

میرا تعلق گجرات شہر سے ہے۔ بچپن ہی سے مصتنصر حسین تارڑ کے سفرناموں نے اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا تھا اور دل کی گہرای میں شمال نوردی کی خواہش دعا کی صورت اختیار کر کے ہوری شدت کے ساتھ لبوں تک آجاتی۔
تب سے فطرت کے نظاروں میں آوارہ گردی کرنے کی لگن رگوں میں خون کی طرح گردش کر رہی ہے۔

یہ کس قدر مشکل تھا کہ ایک ایسی لڑکی جو اپنے شہر سے بھی پوری طرح ناواقف تھی وہ اتنا لمبا رختِ سفر باندھتی مگر کہتے ہیں کہ جزبہ دل کامل ہو تو منزل پکارتی ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جب 1994 میں ماسٹرز کے امتحانات سے فراغت کے بعد قدرت نے میری دعاووں کا جواب دیا اور مجھے چترال میں جاب آفر ہوئ۔
ابتدائی فطری ہچکچاہت جو مجھ پہ طاری ہوی اسے والدہ کی جانب سے ملنے والی حوصلہ افزائی نے بخوبی رفع کر ڈالا اور میں نے وہ جاب آفر قبول کر کے رختِ سفر باندھ لیا۔

اے جذبہِ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجاے
منزل کیلۓ دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے

میری حیرت اور خوشی کا عالم ناقابلِ بیان ہے جو مجھ پہ اس وقت طاری ہوی جب چترال ایرپورٹ پر ہمارے جہاز نے لینڈ کیا۔ جہاں فطرت کے حسن میں گھرے ہوے ہندوکش اور ترچ میر نے میرا استقبال کیا۔ اتنا فطری حسن پہلی بار دیکھا اور یہ سب اس خواب کی تعبیر تھی جو بہت عرصے سے میں دیکھ رہی تھی۔ اللہ کی مہربانی کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا۔

وہاں دو سال قیام رہا اور اس دوران شاید زندگی کے بہترین دن گزارے اور گرد و نواہ میں اپنے جنونِ آوارہ گردی کی تشنگی مٹانے کا خوب موقع ملا جس کا سہرا میرے چترالی کولیگز کے سر جاتا ہے جنہوں نے پر خلوص محبت دی اور چترال مجھے اپنے گھر کی طرح ہی محسوس ہونے لگا۔ وہاں کے دشوار گزار راستوں پر لونگ ڈرایو اور خوب گھومنا دو سالوں کا عمومی معمول تھا جو کہ انتہائ غیر معمولی حد تک حیران کر دینے والے فطری مناظر کے مشاہدات ہر مبنی تھا اس سب کی وجہ سے چترال کو جاننے کا خوب خوب موقع ملا۔

پھر گجرات واپس آنا پڑا تو انہیں فطری مناظر اور پہاڑوں کے ہجر نے بہت رلایا۔۔ اور ردعمل میں پھر وہی دعا بار بار لبوں پہ آتی اور پھر اللہ نے سنی اور شادی ہونے کے بعد میں اور میرے شریکِ حیات دونوں ہی جاب کے سلسلے وادیِ نگر چلے گئے اور وہاں سے گلگت شہر آ گئے۔ جہاں چار سال کا عرصہ رہے اور اس دوران پھر سے فطرت کے حسین قرب کا ناقابلِ فراموش موقعہ ملا۔ اسی دوراں میرے پتر کی پیدائش بھی گلگت میں ہوئی جو اپنے آپ کو پیدائشی گلگتی کہلواتا ہے۔۔۔ 

چترال کا  منظر
چترال کا  منظر 
سونوگر پل ، بونی
سونوگر پل ، بونی
چترال میں برف باری  منظر
چترال میں برف باری  منظر 
پل گرم چشمہ ١٩٩٥
پل گرم چشمہ ١٩٩٥
جب 1995 میں میری دلچسپ روح چوٹی پر تھی، تو اس تصویر کو چترال میں ایک ندی کے قریب لے گیا تھا! راکچی ساخت پہاڑوں اور تازہ ٹھنڈے سلسلے ایک دوسرے کے ساتھ فطرت اور خوبصورتی کی آمیزی کا مرکب تھا. چترال میرا پہلا پیار
جب 1995 میں میری دلچسپ روح چوٹی پر تھی، تو اس تصویر کو چترال میں ایک ندی کے قریب لے گیا تھا! راکچی ساخت پہاڑوں اور تازہ ٹھنڈے سلسلے ایک دوسرے کے ساتھ فطرت اور خوبصورتی کی آمیزی کا مرکب تھا. چترال میرا پہلا پیار

اب پھر سے شہری زندگی کی طرف واپسی ہوئ تو ایک دلچسپ خواہش دامن گیر رہتی ہے کہ میں وہیں جا کر رہوں اور میرے گھر کی کھڑکی سے کوی خوبصورت پہاڑ ہر وقت دکھای دے۔۔ جسے صبح و شام دیکھا کروں۔ یہ تصاویر انہیں دنوں کی یادیں ہیں

کیلاش بمبوریتت کا ہوٹل

 عبدالوحیدطارق، ١٩٩٦

ہوٹل کا کچن، کیلاش بمبوریتت
ہوٹل کا کچن، کیلاش بمبوریتت

-کبھی سوچا بھی نہ تھا، کہ ایسا بھی ہوگا

.١٩٩٦ کی یا دوں کی پٹاری سے ایک اچھوتی، انوکھی، اور چٹ پٹی یاد. جب ہمسفر نے سنبھالا، کیلاش بمبوریت کے ہوٹل کا کچن

گو کہ کل سارا دن گھوم پھر کر ہم بہت تھکے ہوئے تھے، پھر بھی سب کی آنکھ سویرے بہت جلد ہی کھل گئی۔ارادہ کیا کہ جب اٹھ ہی بیٹھے ہیں تو کیوں نہ جلدی سے ناشتہ کرکے صبح کی سیر کو نکل لیں۔ تینوں بیٹیوں اور ہمسفر کو تیار ہونے کا کہہ کر میں نے ہوٹل کے کچن کا رخ کیا، ہوٹل کا منتظم گیٹ کے پاس ہی دکھائی دے گیا۔

"بھائی جلدی سے ناشتہ تیار کردو ہم تھوڑی دیر میں سیر کیلئے نکلیں گے۔ہاں پانچ انڈے اور ۔۔۔" 
میں ابھی جملہ مکمل بھی نہ کرپایا تھا کہ جو جواب سننے کو ملا ، اس نے کھوپڑی کو گھما کر رکھ دیا۔

"ہمارےکک کو کوئی ضروری کام تھا وہ صبح سویرے کہیں چلا گیا ہے، کہیں اور سے آپ کے لئے ناشتے کا بندوبست کردیں گے لیکن کچھ دیر لگ جائے گی"

کھوپڑی گھومی ضرور لیکن جھٹ سے خیال آیا کہ چلو پہلے گھوم پھر آتے ہیں ، ناشتہ کچھ دیر سے کر لیں گے،کمرے میں واپس پہنچ کر ہمسفر کو کک کے کہیں چلے جانے کی اطلاع دی۔ذہن میں جو بات سوجھی تھی وہ بھی بتائی کہ ناشتے سے پہلے ہی کہیں گھوم پھر آتے ہیں۔

"نہیں ابو ! بہت بھوک لگی ہے، ناشتہ کرکے ہی چلیں گے، ویسے بھی ابھی سردی بہت ہے."

بڑی بیٹی کی بات بھی درست تھی ۔ رات کا کھانا بہت جلدی کھا لیا تھا ۔آنتیں اپنی بھی قل ھواللہ پڑھنا شروع ہو گئی تھیں۔ میں دوبارہ باہر نکل کر منتظم کے پاس پہنچا۔

بچوں کو بہت بھوک لگی ہے، کیا ہم تمہارے کچن میں خود ہی ناشتہ نہ بنالیں؟"
"جیسے آپ کی مرضی، اگر آپ تھوڑا انتظار کر لیں تو میں ایک گھنٹے تک ناشتے کا بندوبست کر دوں گا" 
میں نے گھڑی دیکھی جو ساڑھے 8 بجا رہی تھی۔
" نہیں بھائی یہ تو بہت دیرہوجائے گی"

یہ کہتا ہوا میں دوبارہ کمرے کی طرف پلٹا۔
"کچن تمہیں مل جائے تو کیا ناشتہ بنالوگی ؟"
جواب سے اندازہ ہوا کہ بھوک ہمسفر کو بھی زوروں کی لگی تھی۔
"کیوں نہیں، اگر سب چیزیں موجود ہوں توبالکل بنالوں گی"

اب کی بار ہم سب نے باجماعت کمرے سے نکل کر سیدھا کچن کا رخ کیا۔ناشتہ بنانے کیلئے ہمسفر کے سب مطلوبہ ٹولز، بمع آٹا، دودھ، انڈے، چائے کی پتی اور شکر وغیرہ موجود تھے۔
بس پھر کیا تھا، ہمسفر نے کچن سنبھالا اور جھٹ پٹ بھرپور ناشتہ تیا ر کرڈالا۔ کچھ ہی دیر میں ہم اپنے گھر سے کوسوں دور کیلاش کے اس ہوٹل کے سرسبز لان میں بچھی میز کرسیوں پر بیٹھے گھر جیسے مزیدار ناشتے کا مزا لے رہے تھے۔

ہوٹل کے سرسبز لان میں بیٹھ کر گھر جیسے مزیدار ناشتے کا مزہ، کیلاش بمبوریتت
ہوٹل کے سرسبز لان میں بیٹھ کر گھر جیسے مزیدار ناشتے کا مزہ، کیلاش بمبوریتت

فقیر کوٹ،استور

حرا خان، مئی ٢٠٠٦

ساتوں جماعت میں تھی تو تب پہلی بار اپنی سوشل اسٹڈیز کی کلاس ٹیچر سے نانگا پربت اور استور وادی کا نام سنا. نانگا پربت اور استور کا سحر ایسا چڑھا کہ کبھی حسرت سے، کبھی رو رو کہ اور کبھی یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں اللہ سے دعائیں مانگتی تھی کہ کسی طرح استور چلی جاوں، قبولیت کا کون سا لمحہ تھا جب ایسی دعا قبول ہوئی کہ شادی ہی استوری سے ہو گئی، نانگا پربت ہمارے فقیر کوٹ گاوں کہ ہر ہر کونے سے دیکھائی دیتا ہے، فاصلہ ایسا لگتا ہے کہ یہ بس دو گاوں جتنا ہی دور ہے. استور میں رہنے کہ سارے ارمان اللہ نے ایسے پورے کئے کہ جب بھی دریا پر کپڑے دھوتی، کھیت میں کام کرنا پڑھتا یہ جنگل لکڑی لینے جانا ہوتا یہ چشمہ پر پانی لینے جاتی اور گاوں پہاڑ پر ہونے کی وجہ سے چڑھائی چڑھتے سمے ہر بار بیلنس خراب ہو جاتا اور پانی کہ برتن سمیت گر جاتی،تب نانگا پربت کو بہت غصہ سے دیکھتی اور کہتی اللہ بس ایک بار کراچی پہنچا دے پلیز

.اور کراچی واپس آکے دوبارہ گلگت جانے کی دعا کرنا کیوں کہ استور ویلی کو بھولنا اتنا آسان نہیں

.استور ویلی میں تو ہر موڑ مڑنے پر ایک جیسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے پر یہ فقیر کوٹ سے درلہ گاوں کی طرف جانے والا راستہ ہے.
.استور ویلی میں تو ہر موڑ مڑنے پر ایک جیسا ہی نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے پر یہ فقیر کوٹ سے درلہ گاوں کی طرف جانے والا راستہ ہے.

گلگت بلتستان کے لوگوں کی روزمرہ زندگی اتنی آسان اور سھل نہیں جتنی ہمیں اپنے سہولیات سے آراستہ آرام دہ گھروں میں لیپ ٹاپ اور موبائل کی سکرینوں میں گلگت کی رنگین تصاویر دیکھ کے لگتی ہے. وہاں کہ لوگ زندہ رہنے کہ لئے ہر روز قدرت کا ایک نیا چیلنج قبول کرتے ہیں جو ہفتہ دس دن کا ٹریک کرنے والا شہری بندہ نہیں سمجھ سکتا اور وہ لوگ اتنی مشکل زندگی میں بھی .مسکراتے ہیں 

.میں بھی اس تصویر میں مسکرا رہی ہوں پر یقین مانئے میری کپڑے زمین میں دفن آلو نکالنے کی وجہ سے مٹی مٹی تھے

.میں بھی اس تصویر میں مسکرا رہی ہوں پر یقین مانئے میری کپڑے زمین میں دفن آلو نکالنے کی وجہ سے مٹی مٹی تھے
.میں بھی اس تصویر میں مسکرا رہی ہوں پر یقین مانئے میری کپڑے زمین میں دفن آلو نکالنے کی وجہ سے مٹی مٹی تھے

محبّت کی ایک داستان

امجد سہیل، ١٩٨٢

جب گلگت پہنچا تو سمجھ نہ ائی کہ کہاں ٹھہرا جائے کیوں کے راستے میں تو ہم گاڑی کے اندر باہر آرام کر ہی لیتے تھے مگر اب ذرا سہی آرام کی ضرورت تھی . گلگت گورنمنٹ بوائز سکول نظر آیا جہاں چھٹی ہو چکی تھی. ہم نے سکول کی صحن میں سب آرام فرمانے لگے کی اچانک اک صاحب آے اور حیرانی سے پوچھا...

"آپ کون ہیں؟ کہاں سے آے ہو؟" 

یہ تصویر دنیور ٹنل، قراورام انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قریب لی گئی
یہ تصویر دنیور ٹنل، قراورام انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قریب لی گئی

مختصر تعارف کروانے کے بعد وو ہم کو اپنے گھر لے گئے. انکا گھر کافی خوبصورت جگہ پر تھا، بہترین کھانا کھلایا اور اچھی مہمان نوازی کی، اور رات اپنے گھر پے ٹھرایا. یہ صاحب اس سکول کے استاد تھے. تصویر میں ہم سب کے درمیان بیٹھے ہوے ہیں.

نارن سال ٢٠٠٥

بشریٰ سلیم، ٢٠٠٥

 

 یہ تصویر اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتی ہے کہ یہ 8 ا کتوبر کے زلز لے سے صر ف ا یک مہینہ پہلے لی گئ تھی۔ کون جا نتا تھا کہ جن علاقوں سے اتنی خوبصورت یادیں لے کر جا ر ہے ہیں صرف کچھ دن بعد ہی وہ رنج و الم کی تصویر بن کر رہ جا ئیں گے۔ اور با لاکوٹ جیسا حسین شہر صفحۀ ہستی سے ہی مٹ جاۓ گا۔

مگر کیا کیا جاۓ کہ یہی زندگی کی حقیقت ہے۔
افسوس در افسوس تو یہ کہ ہمارا انتہائ شریف النفس ڈرائیور ریاض جس نے ہمیں پوری وادئ کاغان اور ناران کی سیر کروائ اور وہ بھی بالکل خاندان کے ایک فرد کی طرح وہ اس زلزلے میں ذندگی کی بازی ہار گیا۔ 

سب کہاں کچھ لالۀ وگل میں نمایاں ہو گئں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئں

نارن سال ٢٠٠٥
نارن سال ٢٠٠٥

 ایک مُشتِ غُبار 

 خلیل الرحمٰن ولید، ١٩٩٠-١٩٩٣

خبردار ! مغرب کی نماز کے بعد گھر سے باہر قدم نہ رکھنا۔ یہ اَمّی جَان کی آواز تھی جو بچپن میں میرے کانوں میں اکثر گونجا کرتی تھی۔

اور میں نے کبھی اپنے محلے سے باہر قدم نہیں رکھا تھا۔ سکول میں اساتذہ کا ڈر بھی دل میں سہم ڈالے رکھتا۔ کالج میں قدم رکھتے ہی میرے قدم محلے کی گلیوں میں ڈگمگانے لگے اور میں دوستوں کیساتھ "گلچھڑے" اڑانے پہاڑوں کی جانب سفر کرنے لگا یہ 1989 کی بات ہے تصویر کھنچوانے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا ہر منظر کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر خود کو ہیرو سمجھتا، اور گھر سے بھی بمشکل آذادی ملی تھی لہذا خود کو تھوڑا آوارہ کرنا اچھا لگتا تھا۔ لیکن ایک بات پہ بہت غصہ آتا کہ جب بھی منظروں کے بیچوں بیچ خود کو کھڑا کیا تو منظر پیچھے سے سفیدی مائل ہو جاتے فوٹوگرافی آتی نہیں تھی لہذا کیمرے کا ٹھیک سے استعمال ایک مشکل کام لگتا تھا پھر خیال آیا کہ خود کو منظر سے ہٹا دوں اور صرف تصویرِیَار ہی باقی رہے تبھی خوبصورتی کو باآسانی مقید کیا جا سکتا ہے۔ 

وقت کا پہیہ اتنی تیزی سے گزرا کہ خیال ہی نہ رہا کب بَل کھاتے راستوں کی گرد نے بانکپن کو پہاڑوں کی بلندیوں اور وسعتوں سے آشنا کروا کر تمیزدار بنا دیا۔ تب فطری طور پر طبیعت کی "تنہائی" پہاڑوں اور بل کھاتے راستوں کے اسرار میں ایسے رَموز ہوئی کہ پھر دِل اور قدم اپنے اختیار میں نہیں رہے۔ 

جھیل سیف الملوک اور قراقرم ہائی وے کی تصاویر، ١٩٩٠-١٩٩٣
جھیل سیف الملوک اور قراقرم ہائی وے کی تصاویر، ١٩٩٠-١٩٩٣

کراچی سے خیبر اور خیبر سے خنجرآب ۔۔۔۔ میں "اِبْنِ سَبِیل" ہی رہا۔ مجھے منزلوں سے پہلے منزل کا پتا دینے والے سنگِ میل، رَاستوں کے پتھر، پہاڑوں کی بلندیاں اور مسکراتے لوگ زندگی کا یہ عنوان دیتےرہے کہ رستہ بناو گے تو منزلیں خود بخود پیروں تلے کھنچی چلی آئیں گی، روشنیاں جلاؤ گے تو دل مُنَوّر ہوتے چلے جائیں گے، محبّت سے ملو گے تو تعلق جُڑتے چلےجائیں گے۔ نعمتوں کی قدر کرو گے تو ہمیشہ نوازے جاتے رہو گے۔

کراچی سے خنجراب پاس تک سفر، ١٩٩٢-١٩٩٣
کراچی سے خنجراب پاس تک سفر، ١٩٩٢-١٩٩٣
 

وادیوں سے محبّت دراصل خود سے محبّت ہے۔
 

اور اب جبکہ میں جانتا ہوں کہ تیزی سے ختم ہوتی عُمرِرواں کے یہ پل جس دن میری آنکھوں میں بے نور ہو جائیں گے، جب میری تصویریں میری نہ رہیں گی اور تَصوّرِیَار بھی مِٹ جائے گا۔۔۔۔

تومیرا سفر میرے بعد تب بھی جاری رہے گا۔ کیونکہ 29 برس کے سفروں میں مَیں یہ جَان پایا ہُوں کہ مَیں کسی منظر کے بیچوں بیچ کوئی ہیرو نہیں، کوئی فنکار نہیں، کوئی شاہکار نہیں بلکہ ایک مُشتِ غُبار ہُوں، کسی راہگزر کی گردِ رَاہ ہوں جن تصویروں میں تصور یارکو ڈھونڈتا ہوں بس اُسی کی چاہ ہوں۔

اِنہی تَمّنَاؤں اورامیدوں کیساتھ رَستے بناتے رہیئے، شمعیں جلاتے رہیئے۔ محبت پھیلاتے رہیے آپکا سفر بھی ہمیشہ جاری و ساری رہے گا۔


 .مواد اور تصاویر ہر مصنف کی اجازت سے لکھا گیا

Comments (0)

The ruins of Gakhars clan - Pharwala Fort

07 Feb

The ruins of Gakhars clan - Pharwala Fort

Awais Jibran | Punjab
Exploring the birth city of Guru Nanak

28 Dec

Exploring the birth city of Guru Nanak

Awais Jibran | Punjab
Saleh Kamboh Mosque: A page from Mugal era

01 Dec

Saleh Kamboh Mosque: A page from Mugal era

Nadeem Dar | Punjab
Cycling on the Roof of Pakistan (part-1)

06 Aug

Cycling on the Roof of Pakistan (part-1)

Awais Jibran | Gilgit Baltistan
Cycling on the Roof of Pakistan (part-5)

01 Sep

Cycling on the Roof of Pakistan (part-5)

Awais Jibran | Gilgit Baltistan
Shandoor Bohat Door (Shandoor - A place far away) - P5

31 Mar

Shandoor Bohat Door (Shandoor - A place far away) - P5

Awais Jibran | Gilgit Baltistan